اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک ، اس کے بيٹوں اور ساتھيوں کو نمائشي عدالت کي جانب سے تمام الزامات سے بري کئے جانے پر مصر کے اندر عوام ميں کافي غم و غصہ پاياجاتا ہے - فيصلے کا اعلان ہوتے ہي مصر کے مختلف شہروں ميں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور قاہرہ ميں مظاہرين پر سيکورٹي اہلکاروں کے حملوں ميں کم سے کم دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمي ہوئے ہيں -
مصر کے سابق ڈکٹيٹر کو بري کئے جانے کا فيصلہ ايک ايسے وقت سامنے آيا ہے مصري عوام اور عالمي رائے عامہ کي جانب سے ، حسني مبارک کے تيس سالہ جرائم کے پيش نظر اس کو سزائے موت سنائے جانے توقع کا اظہار کيا جارہا تھا ليکن مصر کي عدليہ نے حسني مبارک کو بري کئے جانے کا فيصلہ سنا کر مصري عوام کے غم و غصے کو بھڑکا ديا ہے-
دارالحکومت قاہرہ سميت ملک کے محتلف شہروں ميں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہيں اور عدالتي فيصلے خلاف اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کررہے ہيں-
مصر کي نمائشي عدالت نے سابق دکٹيٹر حسني مبارک اس کے دونوں بيٹوں ، علا مبارک اور جمال مبارک کے علاوہ سيکورٹي کے امور ميں حسني مبارک کے چھے معاونين کو دو ہزار گيارہ ميں بڑے پيمانے پر مخالفين کے قتل عام اور مالي بدعنواني جيسے تمام الزامات سے بري کرکے مصري عوام کے اندر حيرت کے ساتھ ہي غم و غصے کي لہر دوڑا دي ہے- چنانچہ بتايا جاتا ہے کہ صرف قاہرہ ميں ہونے والے مظاہروں ميں متعدد لوگ ہلاک اور زخمي ہوگئے ہيں-
مصر کي وزارت صحت کے ترجمان " حسام عبدالغفار" نے اپنے ايک بيان ميں سنيچر کي رات ہونے والے مظاہروں ميں دو افراد کے ہلاک اور تيرہ کے زخمي ہونے کي خبر دي ہے جن ميں سے بہت سوں کي حالت نازک بتائي جاتي ہے-
اسي کے ساتھ مصر سيول نافرماني کي تحريک نے حسني مبارک کو بري کئے جانے کے فيصلے پرردعمل دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم اپني تحريک جاري رکھيں گے
اخوان المسلمين نے بھي اپنے ايک بيان ميں اس عدالتي فيصلے کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے-
حسني مبارک کو اس کے تمام جرائم سے بري کئے جانے کے فيصلے پر مصري عوام نے جو شديد رد عمل دکھايا ہے اس کے پيش نظر مصر کے اٹارني جنرل نے سابق ڈکٹيٹر کو بري کئے جانے کے عدالتي فيصلے پر نظر ثاني کئے جانے کي درخواست کي ہے-
مزید اطلاعات کے مطابق
مصر کے معزول صدر محمد مرسي کے خلاف مقدمہ کي کاروائي پھر سے شروع کي جارہي ہے-
اطلاعات کے مطابق مصرکے سرکاري ذرائع نے محمد مرسي اور اخوان المسلمين کے ايک سو تيس افراد پر پھرسے مقدمے چلائے جانے کي خبر کي تائيد کرتے ہوئے بتايا ہے کہ قاہرہ کي ايک عدالت ميں اتوار کے روز سے سماعت شروع کردي ہے-
ان افراد پر جيل سے فرار کرنے اور جيلوں ميں بغاوت کي کوشش کرنےکے الزام ميں مقدمہ چلايا جارہ ہے-
اس کيس ميں اخوان المسلمين کے ايک مرکزي رہنما محمد البلتاجي کو عدالت کي جانب سے طلب کيا گيا تھا- اس کيس کے مرکزي ملزم کي حثيت سے محمد مرسي کا نام ہے -
ان پرالزام ہے کہ انہوں نے سن دو ہزار گيارہ ميں النظرون جيل سے قيديوں کے فرارکي منصوبہ بندي کي تھي جو حسني مبارک کي حکومت کي سرنگوني کا باعث بني-
اخوان المسلمين کے رہنماؤں پر مقدمہ کا پھر سے آغاز ايک ايسے وقت ہور رہا ہے کہ تين سال کي کشمکش کے بعد قاہرہ کي ايک عدالت نے حسني مبارک اور اس کے قريبي ساتھيوں کو تمام الزامات سے بري کرديا ہے-
.......
/169